یوکرین روس جنگ‘ مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں گندم کے بحران کا خدشہ

ابوظہبی (این این آئی)دنیا میں سب سے زیادہ گندم پیدا کرنے والے دو ممالک کے درمیان جنگ چھڑنے کے بعد گندم کے حصول کے لیے ان دونوں پر انحصار کرنے والے مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے ممالک میں گندم کا بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔خبر رساں ادارے الجزیرہ کے مطابق روس دنیا میں گندم کا سب سے بڑے ایکسپورٹرز میں سے ایک ہےاور چین اور بھارت کے بعد گندم پیدا کرنے والا تیسرا بڑا ملک ہے جبکہ یوکرین گندم ایکسپورٹ کرنے والے دنیا کے پانچ بڑے ممالک میں سے ایک ہے۔یونیورسٹی آف لندن میں مشرق وسطیٰ میں سیاست

کے لیکچرر کرابیکر اکونلو نے کہا کہ گندم کی کٹائی جولائی میں شروع ہوتی ہے اور اس سال پیداوار بہت زیادہ ہونے کی توقع ہے جس کی بدولت عام حالات میں دنیا میں گندم کی وافر پیداوار کا امکان تھا لیکن یوکرین میں جنگ کی وجہ سے ملک میں کٹائی کا عمل اور بین الاقوامی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے۔اس کے ساتھ ساتھ یوکرین پر حملے کے بعد عالمی برادری کی جانب سے روس کے بینکاری نظام اور معیشت پر لگائی جانے والی پابندیوں کی وجہ سے ملک کی ایکسپورٹ متاثر ہو سکتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے پیدا ہونے والے خوراک کے بحران اور سپلائی چین معطل ہونے کے بعد یہ نیا بحران بہت بڑا لمحہ فکریہ ہے اور اس سے قیمتیں ریکارڈ سطح تک پہنچ سکتی ہیں۔ترکی ملک میں استعمال ہونے والی گندم میں سے نصف کی پیداوار خود کرتا ہے لیکن بقیہ نصف گندم میں سے 85فیصد کے لیے اس کا انحصار یوکرین اور روس پر ہوتا ہے۔سرکاری اعدادوشمار کے مطابق 2021 میں ترکی کی گندم کی درآمدات ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی تھی۔برطانوی یونیورسٹی کی ماہر سیاسیات نے مزید کہا کہ ترک حکومت نے کہا ہے کہ وہ اپنی پیداواری استعداد سے درآمدی گندم کے نقصان کو پورا کرنے کی کوشش کریں گے لیکن اس کے نتیجے میں قیمت تیزی سے اوپر جانے کا خدشہ ہے۔انہوں نے کہا کہ اس جنگ کے نتیجے میں ایک عام ترک شہری کے لیے یہ مشکل سال مزید ابتر ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ ترکی میں روٹی کا وزن کم ہوتا جا رہا ہے لیکن قیمت بڑھتی جا رہی ہے جبکہ بجلی کے بل بھی بڑھتے جا رہے ہیں۔بڑھتی ہوئی قیمتیں اور نامناسب سپلائی کے سبب معاشی طور پر مشکلات سے دوچار مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے ممالک کا گندم کے لیے زیادہ تر انحصار روس اور یوکرین پر ہوتا ہے اور اس جنگ کی وجہ سے وہ بحران کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں۔نیویارک یونیورسٹی ابوظبی میں مشرق وسطیٰ کی سیاست کے پروفیسر مونیکا مارکس نے کہا کہ یوکرین ان ممالک کو بڑے پیمانے پر دالیں فراہم کرتا ہے اور یہ ممالک پہلے سے ہی بحران سے دوچار ہیں، اگر اس بحران سے روٹی کی قیمت مزید بڑھتی ہے تو بحران مزید ابتر شکل اختیار کر جائے گا۔انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کے ممالک کا گندم کے لیے زیادہ تر انحصار درآمدات پر ہوتا ہے، مصر گندم کی درآمدات کے لیے 85فیصد انحصار یوکرین اور روس پر ہوتا ہے جبکہ تیونس بھی 60 سے 70فیصد یوکرین پر انحصار کرتا ہے۔کرابیکر اکونلو نے کہا کہ مصر، تیونس، لبنان کے ساتھ ساتھ یمن اور سوڈان میں بھی قیمتوں اور مانگ میں اضافے کا خدشہ ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں